ایک اونٹ اس سفر کے لیے تاکہ انسان اپنا سفر جاری رکھیں خدا نے نور عقل سے انسان کو نوازا لیکن یہ نور کافی نہیں تھا یہ لازم ضروری تھا یہ نور لازم تھا لیکن کافی نہیں تھا کہ جس طرح ہمارے اس دنیا میں جو زندگی بسر کر رہے ہیں گزار رہے زندگی کو ہمارے پاس بھی نور ہے ایک نور انکھوں کی بینائی اور ایک سیاہ ہی ہم سے شمس کی جو زیارت ہے سورج کی جو روشنی اور نور ہیں اگر انسان یہ کہے کہ بس شخص کی خلقت کی ضرورت نہ تھی سورج کو پتہ نہیں کیوں خلق کیا ہے میری انکھوں کی بینائی میرے لیے کافی ہے میری انکھوں کی بینائی میرے سفر کے لیے کافی ہے اس نور کے ذریعے سے میں بھی جو خواب میں تشکیل دیتا تھا خدا نے کیوں سورت کو خلق کیا ہے یہ غلط اللہ اوپر ہے اشتباہ پر ہے چونکہ جب تک نور چشم کے ساتھ نور سورج نہ لے اپنی راہ کی تشخیص نہیں کر سکتا یہ انکھوں کا نور اور شخص کا نور ہو تو انسان اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اللہ نے انسان کو نور عقل سے بھی نوازا ہے تو ان ساری چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔ انکھوں کی بینائی کے علاوہ بھی نور کی ضرورت تھی انسان کو تو ٹھیک ہے عقلی نور سے نوازا ہے لیکن ایک اور نور بھی تھا جو نورِ انبیاء ہیں نورِ انبیاء نورِ عقل بھی ہو نورِ انبیاء بھی ہو تب جا کے اس نور کے پرداؤ میں اس نور کے سائے میں انسان فرش سے عرش تک جا سکتا ہے
اللہ نے انبیاء علیہم السلام کو کیوں بھجا؟
March 20, 2024
0
