علامہ محمد باقر المجلسی کا مختصر تعارف
علامہ مجلسی یا مجلسی دوم عالم اسلام کے مشہور ترین علما، فقہا اور محدثین میں سے ہیں۔ وہ صفوی دور کے با اثر شیعہ حکام میں شمار ہوتے تھے اور مشہورِ عالَم کتابِ حدیث بحار الانوار کے مؤلف ہیں۔
علامہ مجلسی سنہ 1237 ہجری میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔ ان کی صفوی سلطنت کے دور میں اور شاہ عباس قمی اول کی بادشاہت کے آخری سال میں ہوئی۔ ان کے والد علامہ محمد تقی مجلسی (مجلسی اول)، ہیں جو اپنے زمانے کے نامور اکابرین اور مجتہدین میں سے تھے اور ان کی والدہ صدر الدین محمد عاشوری قمی کی بیٹی اور علم و فضیلت کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ان کی تین زوجات تھیں جن سے وہ 4 بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے باپ بنے۔ ان کے مشہور ترین اساتذہ میں ملا صالح مازندرانی، ملا محسن فیض کاشانی، سید علی خان مدنی اور ملا خلیل قزوینی اور ان کے مشہور ترین شاگردوں میں میرزا عبداللہ افندی اصفہانی، سید نعمت اللہ جزائری، شیخ عبداللہ بحرانی، محمد بن علی اردبیلی، میرزا محمد مشہدی، میر محمدحسین خاتون آبادی اور سید ابوالقاسم خوانساری، شامل ہیں۔ مجلسی نے متعدد کتب تالیف کی ہیں جن میں بحارالانوار، مرآة العقول، حق الیقین، زاد المعاد، تحفۃ الزائر، عین الحیات، حیاة القلوب، جلا العیون، حلیۃ المتقین وغیرہ شامل ہیں۔
