ولادت حضرت امام حسین (ع) رحمت واسعہ خداوند رحیم

Admin
0

 ولادت حضرت امام حسین (ع)  رحمت واسعہ خداوند رحیم


 

امام حسین علیہ السلام کی ولادت با سعادت:

حضرت امام حسین بن علی علیہ  السلام مدینہ منورہ میں ہجرت کے چوتھے سال تین شعبان کو منگل یا بدھ کے دن پیدا ہوئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول اور بعض کے مطابق ہجرت کے تیسرے یا چوتھے سال جمادی الاول کی پنجم کو ہوئی ہے۔ بنابریں آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ تین شعبان ہجرت کے چوتھے سال میں پیدا  ہوئے۔

ولادت کے بعد آپ کو آپ کے جد بزرگوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے پاس لایا گيا آپ کو دیکھ کر رسول اکرم (ص) مسرور و شادمان  ہوئے آپ کے دائيں کان میں اذان کہی اور بائيں کان میں اقامت، اور ولادت کے ساتویں دن ایک گوسفند کی قربانی کر کے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ جناب صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا کہ "بچے کا سر مونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ دو۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے چھ سال چند ماہ کا عرصہ اپنے جد امجد رسول اللہ کے زیر سایہ گزارا اور 29 سال و گیارہ ماہ اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور دس سال کا عرصہ اپنے برادر بزرگوار حضرت امام حسن مجتبی کے ساتھ گزارا، امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت کی مدت دس برسوں پر مشتمل ہے۔

امام حسین علیہ السلام سب سے بہتر:

حذیفہ یمان روایت کرتے ہیں کہ: ایک دن رسول اللہ (ص) ایسے عالم میں مسجد میں داخل  ہوئے کہ امام حسین علیہ السلام آپ کے شانے پر بیٹھے  ہوئے تھے اور آپ امام حسین علیہ السلام کے پیروں کو اپنے سینے پر دبا رہے تھے، آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں آپ لوگ کس مسئلے کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کی دادی بہترین دادی ہیں ان کے جد محمد رسول اللہ سید المرسلین ہیں ان کی نانی خدیجۃ بنت  خویلد وہ پہلی خاتون ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائيں تھیں،یہ حسین ابن علی ہیں جن کے والدین بہترین والدین ہیں ان کے والد علی ابن ابیطالب ہیں جو رسول خدا کے بھائی وزیر اور چچا زاد بھائی ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں۔ جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے ، اور ان کی والدہ فاطمہ بنت محمد سیدۃ النساء العالمین ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے چچا اور پھوپھی بہترین چچا اور پھوپھی ہیں۔ ان کے چچا جعفر ابن ابیطالب ہیں جنہیں خدا نے دو پر عطا کیے ہیں، جن سے وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پرواز کر کے جا سکتے ہیں۔ ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب ہیں۔ یہ حسین ابن علی ہیں جن کے ماموں اور خالہ بہترین ماموں اور خالہ ہیں۔ ان کے ماموں قاسم ابن رسول اللہ ہیں اور خالہ زینب بنت رسول اللہ ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ نے حسین کو اپنے شانے سے نیچے اتارا اور فرمایا اے لوگو یہ حسین ہے جس کے دادا اور دادی بہشت میں ہیں، اس کے ماموں اور خالہ بہشت میں ہیں اور یہ بھی اور اس کے بھائی بھی بہشتی ہیں۔

حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں:

امام علی علیہ السلام نے رسول خدا ص سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ ۔

ابن عباس نے رسول اللہ (ص) سے روایت کی ہے کہ:

الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ من احبھما فقد احبنی و من ابغضھما فقد ابغضنی،

حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں جو ان سے محبت کرےگا، اس نے مجھ سے محبت کی اور جو ان سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

اسی روایت کو عمر اور اس کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے بھی رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے۔

رسول اللہ کے معروف صحابی حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں کہ:

ایک شب میں رسول اللہ کی خدمت میں گیا اور آپ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی حضرت اٹھے اور نماز میں مشغول ہو گئے، یہانتک کے عشاء کا وقت ہو گيا نماز عشاء بھی آپ کی امامت میں ادا کی، پھر انتظار کرنے لگا رسول اللہ مسجد سے باہر تشریف لے جانے لگے تا کہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوں، میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا میں نے دیکھا آپ کسی سے گفتگو فرما رہے ہیں تاہم یہ نہ سمجھ سکا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ آپ نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کون ہو ؟ میں نے کہا حذیفہ ہوں،

آپ نے فرمایا تم سمجھے میں کس سے بات کر رہا تھا؟میں نے کہا جی نہیں،

آپ نے فرمایا جبرئيل امین تھے انہوں نے خدا کا سلام پہنچانے کے بعد مجھے بشارت دی کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار اور حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

جابر ابن عبد اللہ انصاری نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ:

ایک دن ہم رسول اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے  ہوئے تھے کہ اتنے میں حسین مسجد میں داخل ہوتے ہیں آپ نے ہمیں مخاطب کر کے فرمایا:

من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنۃ فلینظر الی حسین ابن علی ۔

جو جنت کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسین ابن علی کو دیکھے۔

امام حسین اور آيۃ مباہلہ:

شیعہ اور سنی علماء اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ نصاری نجران سے سے مباہلہ کے وقت رسول اللہؐ  نے علی ؑ و فاطمہ ؑ حسن ؑ و حسین ؑ کو اپنے ساتھ لیا اور انہیں آیۃ شریفہ کے الفاظ ابنائنا و نسائنا و انفسنا کا مصداق قرار دیا۔ یہ امر اس قدر مشہور و مسلم ہے کہ اہل سنت کے بزرگ عالم دین حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب معرفت الحدیث میں اس واقعے کو متواتر روایات کا مصداق قرار دیا ہے۔

حسینؑ وارث علم پیغمبرؐ :

ابن عباس کے شاگرد رشید عکرمہ نقل کرتے ہیں کہ:

ایک دن ابن عباس مسجد میں لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے کہ نافع بن ازرق اٹھا اور کہنے لگا اے ابن عباس کیا تم کیڑے مکوڑوں کے احکام سے لوگوں کے لیے فتوے صادر کرتے ہو؟ اگر تم صاحب علم ہو تو مجھے اس خدا کے بارے میں بتاؤ جسکی تم پرستش کرتے ہو ابن عباس نے یہ سن کر سر جھکا لیا اور خاموش ہو گئے، امام حسین علیہ السلام مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھے  ہوئے تھے،  آپ نے رافع سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے نافع میرے پاس آؤ تا کہ میں تمہارے سوال کا جواب دے سکوں۔

نافع نے کہا میں نے تو آپ سے سوال نہیں پوچھا تھا۔

ابن عباس نے کہا:

یابن الازرق انہ من اھل البیت النبوہ و ھم ورثۃ العلم۔

اے ابن ازرق حسین اہل بیت نبوت میں سے ہیں اور اہل بیت علم کے وارث ہیں۔

نافع امام کے پاس گیا آپ نے اس کا تسلی بخش جواب دیا

نافع نے کہا اے حسین آپ کا کلام پرمغز اور فصیح ہے،

امام نے فرمایا میں نے سنا ہے تم میرے والد اور بھائی پر کفر کا الزام لگاتے ہو؟

نافع نے کہا خدا کی قسم میں نے جو آپ کی باتیں سنیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ ہی نور اسلام کا سرچشمہ اور احکام کا منبع ہیں۔

امام نے فرمایا میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں۔

نافع نے کہا  پوچھیئے یابن رسول اللہؐ 

آپ نے فرمایا کیا تو نے یہ آیت: فاما الجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینہ پڑھی ہے؟

اے نافع کس نے ان دو یتیم بچوں کے لیے دیوار کے نیچے خزانہ چھپا رکھا تھا تا کہ ان کو وارثت میں مل سکے؟ نافع نے کہا ان کے باپ نے،

امام نے فرمایا: سچ بتاؤ کیا ان کا باپ زیادہ مہربان ہے یا اپنی امت کے لیے رسول اللہؐ  زیادہ مہربان ہیں؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے اپنے بچوں کے لیے علم نہیں چھوڑا ہے اور ہمیں اس سے محروم رکھا ہے؟

ریحانۃ الرسول: ( رسول خدا کے پھول)

جابر ابن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ: ایک دن ہم رسول اللہؐ  کے حضور بیٹھے  ہوئے تھے کہ علی علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اس وقت رسول اللہؐ  نے حضرت علیؑ  کی طرف رخ کر کے فرمایا:

سلام علیک یا ابا لریحانتین اوصیک بریحانتی من الدنیا خیرا فعن قلیل ینھدم رکناک واللہ عزوجل خلیفتی علیک۔

جابر کا کہنا ہے کہ جب رسول اللہ کا وصال ہوا تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ ایک رکن تھا، جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا اور جس وقت جناب فاطمہ نے وفات پائی تو آپ نے فرمایا یہ دوسرا رکن تھا، جسکے بارے میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا تھا۔

اسی سلسلے میں ایک روایت عبد اللہ ابن عمر سے نقل ہوئی ہے جو واقعہ عاشورہ کے بعد امام حسین ؑ سے متعلق ہے۔

ابن نعیم نقل کرتا ہے کہ ایک دن ہم عبد اللہ ابن عمر کے پاس بیٹھے  ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا کہ اگر مچھر کا خون نمازی کے لباس پر لگا ہو تو کیا اسکی نماز صحیح ہے یا نہیں؟

عبد اللہ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو اور کہاں کے رہنے والے ہو؟ سائل نے کہا عراق کا رہنے والا ہوں، عبد اللہ نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو کہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے، جبکہ انہوں نے رسول خدا کے بیٹے کو قتل کیا اور خاموشی بھی اختیار کی میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ:

حسن و حسین اس دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

سخاوت و تواضع:

ایک دن حضرت امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ کئی بچے ملکر روٹی کا ایک ٹکڑا مل بانٹ کر کھا رہے ہیں ان بچوں نے امام سے بھی درخواست کی کہ آپ بھی اس روٹی میں سے تناول فرمائيں آپ نے بچوں کی بات مان لی اور ان کی روٹی کے ٹکڑے میں سے تناول فرمایا اس کے بعد ان سب کو اپنے گھر لے کر آئے انہیں کھانا کھلایا اور نئے کپڑے پہنائے اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ مجھ سے زیادہ سخی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ بخش دیا تھا لیکن میں نے اپنے مال میں سے کچھ حصہ انہیں دیا ہے ۔

امام حسین کی سبق آموز زندگی:

 مومن کے دل کی خوشی:

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہوا کہ آپ نے فرمایا:

میرے نزدیک ثابت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: نماز کے بعد بہترین کام کسی مؤمن کے دل کو خوش کرنا ہے، اگر اس کام میں گناہ نہ ہو۔

میں نے ایک روز ایک غلام کو دیکھا جو اپنے کتے کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، میں نے اس سے سبب دریافت کیا تو اس نے کہا: یابن رسول الله! میں غمگین ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اس کتے کا دل خوش کروں تا کہ میرا دل خوش ہو جائے، میرا آقا یہودی ہے، میں اس سے جدا ہونے کی تمنا رکھتا ہوں۔

حضرت امام حسین علیہ السلام دو سو دینار اس کے آقا کے پاس لے گئے اور اس غلام کی قیمت ادا کرنی چاہی اور اس کو خریدنا چاہا تو اس کے مالک نے کہا: غلام آپ کے قدموں پر نثار اور میں نے یہ باغ بھی اس کو بخش دیا اور یہ دینار بھی آپ کو واپس کرتا ہوں۔

امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے بھی یہ مال تمھیں بخشا، اس آقا نے کہا: میں نے آپ کی بخشش کو قبول کیا اور اسے غلام کو بخش دیا، امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے غلام کو آزاد کر دیا اور یہ مال اس کو بخش دیا۔

اس شخص کی زوجہ اس نیکی کو دیکھ رہی تھی، چنانچہ وہ مسلمان ہو گئی اور اس نے کہا: میں نے اپنا مہر شوہر کو بخش دیا ہے، اس کے بعد وہ آقا بھی اسلام لے آیا اور اپنا مکان اپنی زوجہ کو بخش دیا۔

ایک قدم اٹھانے سے ایک غلام آزاد ہو گیا ایک غریب بے نیاز ہو گیا، ایک کافر مسلمان ہو گیا، میاں بیوی آپس میں با محبت بن گئے، زوجہ صاحب خانہ ہو گئی، اور عورت مالک بن گئی، یہ قدم کیسا قدم تھا۔ 

استاد کی تعظیم:

عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے ایک بیٹے کو سورہ حمد کی تعلیم دی، جب اس بیٹے نے امام حسین علیہ السلام کے سامنے اس سورہ کی قرائت کی  تو (خوش ہو کر) استاد کو ایک ہزار دینار اور ہزار حُلّے عطا کیے اور ان کا منہ نایاب درّ سے بھر دیا، لوگوں نے ایک دن کی تعلیم کی وجہ سے اتنا کچھ عطا کرنے پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا:

اٴَیْنَ یَقَعُ ھٰذٰا مِنْ عَطٰائِہِ۔جو کچھ میں نے اس کو عطا کیا ہے اس کی عطا کے مقابلے میں کہاں قرار پائے گا؟ 


انسان کی اہمیت:

ایک اعرابی حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: یا بن رسول الله! میں ایک کامل دیت کا ضامن ہوں، لیکن اس کو ادا نہیں کر سکتا، میں نے دل میں سوچا کہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ کریم و سخی انسان سے سوال کروں اور میں پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت (علیھم السلام) سے زیادہ کسی کریم کو نہیں جانتا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے عرب بھائی تجھ سے تین سوال کرتا ہوں اگر ان میں ایک کا جواب دیا تو تمھاری درخواست کا ایک تہائی حصہ تجھے عطا کر دوں گا، اگر تو نے دو سوال کا جواب دیا تو دو تہائی مال عطا کر دوں گا اور اگر تینوں کا جواب دیدیا تو سارا مال تجھے عطا کر دوں گا۔

اس عرب نے کہا: کیا آپ جیسی شخصیت جو علم و شرف کے مالک ہیں مجھ جیسے شخص سے مسئلہ معلوم کرتی ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں، میں نے اپنے جد رسول اکرم (ص) سے سنا ھے کہ آپ نے فرمایا: شخص کی اہمیت اس کی معرفت کے مطابق ہوتی ہے، اس عرب نے کہا: تو معلوم کیجئے کہ اگر مجھے معلوم ہو گا تو جواب دوں گا اور اگر معلوم نہیں ہو گا تو آپ سے معلوم کر لوں گا، اور خدا کی مدد کے علاوہ کوئی طاقت و قدرت نہیں ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر ایمان رکھنا۔

امام علیہ السلام نے اس سے سوال کیا: ہلاکت سے نجات کا راستہ کیا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر بھروسہ رکھنا۔

آپ نے فرمایا: مردوں کی زینت کیا ہوتی ہے؟ اس عرب نے کہا: ایسا علم، جس کے ساتھ بُردباری ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا کہ اگر یہ نہ ہو تو؟ اس عرب نے کہا: ایسی دولت جس کے ساتھ ساتھ سخاوت ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس نے کہا: تنگدستی اور غربت کہ جس کے ساتھ صبر ہو، امام علیہ السلام نے سوال فرمایا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس عرب نے کہا: آسمان سے ایک بجلی گرے اور ایسے شخص کو جلا ڈالے کیونکہ ایسے شخص کی سزا یہی ہے!

حضرت امام حسین علیہ السلام مسکرائے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی اس کو دی اور اپنی انگوٹھی اس کو عطا کی جس میں دو سو درہم کا قیمتی نگینہ تھا، اور فرمایا: اے عرب! ہزار دینار سے اپنا قرض ادا کرو اور انگوٹھی کو اپنی زندگی کے خرچ کے لیے فروخت کر دو، چنانچہ عرب نے وہ سب کچھ لیا اور کہا: الله بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے۔ 

اللهُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ۔ 

حریت اور آزادی:

امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کی آشکارا صفات میں سے ایک صفت حریت اور آزادی تھی۔

امام حسین (ع) نے ذلت کو قبول نہیں کیا، ظلم و ستم کے نیچے نہیں دبے اور ظالموں کا آخری لمحہ تک منہ توڑ جواب دیا۔ یزید کے بر سر اقتدار آنے سے یہ احساس کیا کہ اسلامی اور انسانی قدریں نابود ہو رہی ہیں۔ اگر یزید جیسا شرابخوار، ہوس پرست اور زن باز اسلامی تخت خلافت پر بیٹھ جائے تو دین اور دینداری کا چراغ گل ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے روز اول مروان کے سامنے بیٹھ کر یہ اعلان کر دیا کہ:

جب بھی اسلامی حکومت کی باگ ڈور یزید جیسوں کے ہاتھ میں ہو تو ایسے میں اسلام کی فاتحہ پڑھنا چاہیے۔

اپنے بھائی محمد حنفیہ کے جواب میں جو مصلحت کی دعوت دے رہے تھے فرمایا: چنانچہ پوری دنیا میں اگر کہیں پناہگاہ نہ ملے تب بھی یزید کی بیعت نہیں کی جائے گی۔

وہ حسین (ع) کہ جنہوں نے آغوش وحی میں تربیت حاصل کی تھی ہرگز اپنے ذاتی مفاد اور مصالح کی حفاظت کی خاطر اہداف رسالت کو پامال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا تھا:

ہم خاندان پیغمبر، آماجگاہ رسالت اور فرشتوں کی رفت و آمد کی جگہ ہیں۔ خداوند نے اس کائنات کا ہم سے آغاز کیا تھا اور ہمیں پر ہی اس کا خاتمہ کرے گا۔ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔

اسی وجہ سے ان کی بے غیرت مندانہ رفتار کو دیکھ کر آپ نے فرمایا:

انْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دينٌ وَكُنْتُمْ لا تَخافُونَ الْمَعادَ فَكُونُوا أَحْراراً فِى دُنْياكُمْ۔ 

اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے اور قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم سے کم اپنی زندگی میں آزاد تو رہو۔۔۔۔

صلح امام حسن (ع) کے دور میں:

حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنے دور کے سیاسی، سماجی اور عسکری حالات کے پیش نظر معاویہ ملعون کے ساتھ ایسا عہد و پیمان کیا کہ جس سے اسلامی قدروں کو محفوظ رکھا جا سکتا تھا۔ جنگ کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن خود خواہ اور زیرک عناصر اس اس صلح پر راضی نہ تھے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ مخالف کا اظہار کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کو بھی اس صلح سے کنارہ کشی کی ترغیب دلاتے تھے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے ان کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے بیعت کر لی ہے اور بیعت ٹورنے کا ابھی کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت منصب امامت پر امام حسن علیہ السلام فائز ہیں۔ ان کے ساتھ مخالفت جائز نہیں ہے۔

امام حسن (ع) کی شہادت کے بعد جب تک معاویہ زندہ تھا پیمان صلح کی بنا پر آپ نے اس کے ساتھ عہد و پیمان نہیں توڑا اور کسی طرح کا قیام اس کے خلاف نہیں کیا۔ جو اس کے ساتھ مخالفت کی دعوتیں دیتے تھے آپ فرماتے تھے کہ جب تک معاویہ زندہ ہے ہم پیمان صلح کی وجہ سے اس کے ساتھ مخالفت کا حق نہیں رکھتے۔

امام حسن (ع) اور معاویہ کے درمیان پیمان صلح کی بنا پر معاویہ اپنے بعد جانشین مقرر کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا۔ ایک دن مغیرہ بن شعبہ کہ جو کوفہ کی سربراہی سے معزول ہوا تھا۔ معاویہ کے پاس آیا اور اسے مشورہ دیا کہ اپنے بعد یزید کو جانشین مقرر کرے۔ معاویہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں مردّد تھا لیکن مغیرہ نے اسے دعدہ دیا کہ وہ کوفہ اور بصرہ کے لوگوں سے اس کے لیے بیعت لے گا اور ان شہروں کی بیعت کے بعد مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اس کے بعد معاویہ نے بھی کوشش کرنا شروع کر دی کہ یزید کے لیے ہر ممکن صورت میں بیعت لے اور چونکہ سب زیادہ مخالف لوگ اس کے حجاز میں تھے لہذا حاکم مدینہ کو حکم دیا کہ وہ امام حسین (ع) اور چند دوسرے افراد سے یزید کے لیے بیعت لے لے۔ اس تلاش و کوشش کے ناکام ہونے کے بعد وہ خود مکہ و مدینہ میں عازم سفر ہوا اور لوگوں کے درمیان اس بات کو رکھا لیکن اس کوشش بھی ناکام رہ گئی اور وہ واپس شام آنے پر مجبور ہو گیا۔

معاویہ کے مرگ کے بعد سب سے پہلا سیاسی اقدام یہ تھا کہ امام حسین اور چند دوسرے افراد سے یزید کے لیے بیعت حاصل کی جائے۔ لیکن امام حسین (ع) یزید کی بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور اس کے مقابلہ میں قیام کرنے پر تیار ہو گئے۔ حاکم مدینہ نے یزید کے حکم کے مطابق امام حسین (ع) کو اس کام کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آپ نے اپنا وطن مدینہ چھوڑا اور مکہ کی طرف چل پڑے۔ کوفہ کے لوگوں کو محض خبر ملتے کہ امام یزید کی بیعت کے مخالف ہیں اور نتیجہ میں اس کی مخالف میں قیام کرنا چاہتے ہیں ان کی طرف خطوط کے ڈھیر لکھنا شروع کر دئیے کہ امام ان کے شہر یعنی کوفہ میں تشریف لے جا کر حکومت اسلامی کی زمام کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ ان کے خطوط کے مضامین تقریبا کچھ اس طرح کے تھے:

"ہمارے ہاں کوئی امام نہیں ہے۔ آپ آ جائیے ۔ خدا آپ کے ذریعے ہمیں حق کی طرف ہدایت کرے گا" امام علیہ السلام نے بھی فریضہ الہی پر عمل کرتے ہوئے اور حجت تمام کرتے ہوئے یہ ارادہ بنا لیا کہ ان کے تقاضا کو پورا کیا جائے۔

اس دوران مکہ میں کئی شخصیات آپ کو اس کام سے روکنے کی غرض کے لیے آئیں۔

منجملہ ابن عباس نے اس سلسلے میں امام (ع) سے گفتگو کی اور کہا اگر کوفہ کے لوگ اپنے حاکم کو قتل کر کے حکومتی امور کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنے دشمنوں کو اپنے شہر سے باہر کریں تو ٹھیک ہے آپ جائیں۔ لیکن اگر ان کا حاکم ان پر حکومت کر رہا ہو اور وہ اس کو ٹیکس اور جزئیہ ادا کرتے ہوں تو ایسی حالت میں آپ کو دعوت صرف جنگ و جدال کے ہو گی۔ ابن عباس نے مزید کہا اگر سچ مچ آپ کو مکہ بھی چھوڑنا ہے تو یمن کی طرف چلے جائیے اور اپنا آپ بچا لیجیئے۔

اس کے بعد عبد اللہ بن زبیر نے بھی اصرار کیا کہ آپ مکہ میں ہی ٹھر جائیں اس لیے کہ مکہ میں آپ کا مقام و منزلت عظیم ہے۔ اور لوگ یہی پر آپ کے حکم کی اتباع کریں گے۔

اس باوجود ان میں سے بعض باتیں منطقی اور بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہیں لیکن امام (ع) نے کسی ایک کی بھی نہ سنی اور سب کی باتوں کی تردید کی۔ آخر کیوں؟ اس بات کا راز امام (ع) کے عقیدہ اور دوسرے لوگوں کے طرز تفکرات میں پنہان تھا۔ وہ لوگ سیاسی اور فوجی نگاہ سے اس مسئلہ کی طرف دیکھتے تھے اور نتیجہ میں امام (ع) کی بنی امیہ پر کامیابی کو امر محال سمجھتے تھے۔ لیکن امام (ع) ان خبروں کی بنا پر جو آپ کے نانا اور بابا کی طرف سے آپ کی شہادت کے بارے میں نقل ہوئیں تھی اور آپ کے لیے تعیین تکلیف کر رہی تھیں آگے بڑھ رہے تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرما دیا تھا کہ میرا بیٹا حسین (ع) بنی امیہ کے ہاتھوں شہید ہو گا۔ اور امام حسین (ع) قضای الٰہی کے سامنے تسلیم تھے اور الہی الھامات کی بنا پر قدم اٹھا رہے ت  ھے۔

رسول خدا (ص) کی امام حسین (ع) سے محبت:

حضرت رسول خدا اپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے، آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا، اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ رسول کا فرمان ہے کہ : من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنة فلینظر الی الحسین بن علی۔ 

جو شخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حسین بن علی کے چہرے کو دیکھے۔

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ امام حسین کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے یہ فرما رہے تھے:

  اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ ۔ 

پروردگارامیں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما،

اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ '۔ 

یعلی بن مرہ سے روایت ہے : ہم نبی اکرم  کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ نے کھڑے ہو کر اپنے دونوں ہاتھ امام کی طرف پھیلا دیئے ، آپ مسکرا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھر آؤ یہاں تک کہ آپ نے امام حسین کو اپنی آغوش میں لے لیا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لیے اور فرمایا:

حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط ۔ 

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں خدایا جو حسین سے محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے۔

قوت ارادہ:

ابو الشہدا کی ذات میں قوت ارادہ ، عزم محکم و مصمم تھا  یہ مظہر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام سے میراث میں ملا تھا، جنھوں نے تاریخ بدل دی ، زندگی کے مفہوم کو بدل دیا  تنہا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے جو آپ کو کلمہ لا الٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کیے بغیر اپنے چچا ابو طالب مؤمن قریش سے کہا :  'خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لیے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نہیں آؤنگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ہو جائے ۔۔۔ 

پیغمبر اسلام نے اس خدائی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کر دیا اور وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر غالب آ گئے ، اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کرنے کا اعلان فرما دیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے اپنے بہت کم ناصر و مدد گار کے ساتھ میدان جہاد میں قدم رکھا اور کلمہ باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نہیں روک سکا، اور آپ نے اس زندہ جاوید کلمہ کے ذریعہ اعلان فرمایا :

'میں موت کو سعادت کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

 اور آپ ہی کا فرمان ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے،

آپ پرچم اسلام کو بلند کرنے کیلئے اپنے اہل بیت خاندان عصمت و طہارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یہاں تک کہ خود امام شہید ہو گئے ،آپ ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے۔ آپ پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نہیں جھکے جن سے عقلیں مدہوش اور صاحبانِ عقل حیرت زدہ ہو جاتے ہیں۔

ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا:

امام حسین کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کرنا تھا، اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم ) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشہور و منتشر ہوا، آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ہی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا، آپ بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نہیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سو گئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کہنا ہے :

والحسینُ الذی رأی الموت ف العز

حیاةً وَالعیشَ فی الذلِّ قتلا۔  

یعنی حسین وہ ہیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ہے ۔

مشہور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کو شدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ہے۔

شجاعت:

بڑے بڑے صاحبان فکر و نظر نے پوری تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بہادر انسان نہیں دیکھا ، جتنی امام حسین کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ موقف اختیار فرمایا جس سے سب متحیر ہو گئے ، عقلیں مدہوش ہو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ہو کر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیا کی ہر زبان میں چرچے تھے ۔

آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبہوت ہو کر رہ گئے ، آپ ان ہوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نہیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کیے جا رہے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنا ہی آپ مسکرا رہے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اہل بیت کا خاتمہ ہو گیا اور (روایات کے مطابق ) تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنہا ان پر ایسا حملہ کیا، جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ہو گیا ،وہ آپ کے سامنے سے اس طرح بھاگے جا رہے تھے، جس طرح شیرِ غضبناک (روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ،آپ ہر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ہو گئے آپ کے وقار میں کوئی کمی نہیں آئی ، آپ کا امر محکم و پائیدار اور موت کمزور ہو کر رہ گئی تھی،

سید حیدرکہتے ہیں :

فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ

کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْہُ جُمُوْعُ

رُمْحُہُ مِنْ بِنَائِہِ وَکَاَنَّ مِنْ

عَزْمِہِ حَدَّ سَیْفِہِ مَطْبُوْعُ

زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ

مَھْرُھَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ

'امام حسین نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنہا مقابلہ کیا لیکن ہیبت کے لحاظ سے آپ کے بدن کا ہرحصہ کئی جماعتوں کی مانند تھا۔

آپ کی انگلیوں کا پور پور نیزے کا کام کرتا تھا اپنی بلند ہمت کی بنا پر آپ کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ گئی تھی ۔آپ نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباہی مچا دی۔

صراحت:

حضرت امام حسینؑ  کی ایک صفت کلام میں صاف گوئی سے کام لینا تھی ،سلوک میں صراحت سے کام لینا ، اپنی پوری زندگی کے کسی لمحہ میں بھی نہ کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا، نہ سست راستہ اختیار کیا، آپ نے ہمیشہ ایسا واضح راستہ اختیار فرمایا جو آپ کے زندہ ضمیر کے ساتھ منسلک تھا اور خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھا جن کا آپ کے دین اور خلق میں کوئی مقام نہیں تھا ،یہ آپ کے واضح راستہ کا ہی اثر تھا کہ یثرب کے حاکم یزید نے آپ کو رات کی تاریکی میں بلایا، آپ کو معاویہ کے ہلاک ہونے کی خبر دی اور آپ سے رات کے اندہیرے میں یزید کے لیے بیعت طلب کی تو آپ نے یہ فرماتے ہوئے انکار کر دیا :

اے امیر ،ہم اہل بیت نبوت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں ،اللہ نے ہم ہی سے دنیا کا آغاز کیا اور ہم پر ہی اس کا خاتمہ ہو گا، یزید فاسق و فاجر ہے ،شارب الخمر ہے ،نفس محترم کا قاتل ہے وہ ہر فسق کا انجام دینے والا ہے اور میرے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ۔

ان کلمات کے ذریعہ آپ کی صاف گوئی ،بلندی مقام اور حق کی راہ میں ٹکرانے کی طاقت واضح ہو جاتی ہے۔

آپ کی ذات میں اسی صاف گوئی کی عادت کے موجود ہونے کا یہ اثر تھا کہ جب آپ عراق کی طرف جا رہے تھے تو راستہ میں آپ کو مسلم بن عقیل کے انتقال اور ان کو اہل کوفہ کے رسوا و ذلیل کرنے کی درد ناک خبر ملی تو آپ نے ان افراد سے جنھوں نے حق کی حمایت کا راستہ اختیار نہ کر کے عفو کا راستہ اختیار کیا فرمایا: 'ہمارے شیعوں کو رسوا و ذلیل کیا تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے ، تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔

لالچی افراد آپ سے جدا ہو گئے ،صرف آپ کے ساتھ آپ کے منتخب اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام باقی رہ گئے ،آپ نے ان مشکل حالات میں دنیا پرست افراد سے اجتناب کیا جن میں آپ کو ناصر و مدد گار کی ضرورت تھی ، آپ نے سخت لمحات میں مکر و فریب سے اجتناب کیا آپ کا عقیدہ تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کے لیے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔

اسی صاف گوئی و صراحت کا اثر تھا کہ آپ نے محرم الحرام شب عاشورہ میں اپنے اہل بیت اور اصحاب کو جمع کر کے ان سے فرمایا کہ میں کل قتل کر دیا جائوں گا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی کل قتل کر دیئے جائیں گے، آپ نے صاف طور پر ان کے سامنے اپنا امر بیان فرماتے ہوئے کہا کہ تم رات کی تاریکی میں مجھ سے جدا ہو جاؤ ،تو اس عظیم خاندان نے آپ سے الگ ہونے سے منع کر دیا اور آپ کے ساتھ شہید ہونے پر اصرار کیا۔ 

حکومتیں ختم ہو گئیں بادشاہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن یہ بلند اخلاق باقی رہنے کے حقدار ہیں جو کائنات میں ہمیشہ باقی رہیں گے ،کیونکہ یہ بلند و بالا اور اہم نمونے ہیں جن کے بغیر انسان کریم و شفیق نہیں ہو سکتا ۔

حق کے سلسلہ میں استقامت:

امام حسین کی اہم اور نمایاں صفت حق کے سلسلہ میں استقامت و پائیداری تھی ،آپ نے حق کی خاطر اس مشکل راستہ کو طے کیا، باطل کے قلعوں کو مسمار اور ظلم و جور کو نیست و نابود کر دیا ۔

آپ نے اپنے تمام مفاہیم میں حق کی بنیاد رکھی ،تیر برستے ہوئے میدان کو سر کیا، تا کہ اسلامی وطن میں حق کا بول بالا ہو، سخت دلی کے موج مارنے والے سمندر سے امت کو نجات دی جائے جس کے اطراف میں باطل قواعد و ضوابط معین کیے گئے تھے ، ظلم کا صفایا ہو، سرکشی کے آشیانہ کی فضا میں باطل کے اڈّے، ظلم کے ٹھکانے اور سرکشی کے آشیانے وجود میں آ گئے تھے، امام نے ان سب سے روگردانی کی ہے ۔

امام نے امت کو باطل خرافات اور گمراہی میں غرق ہوتے دیکھا ،آپ کی زندگی میں کوئی بھی مفہوم حق کے مفہوم سے زیادہ نمایاں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،آپ حق کا پرچم بلند کرنے کے لیے قربانی اور فدیہ کے میدان میں تشریف لائے ،آپ نے اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے وقت اس نورانی مقصد کا یوں اعلان فرمایا:

'کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ نہ حق پر عمل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی باطل سے منع کیا جا رہا ہے، جس سے مؤمن اللہ سے ملاقات کرنے کے لیے راغب ہو ۔

امام حسین کی شخصیت میں حق کا عنصر موجود تھا ،اور نبی اکرم نے آپ کی ذات میں اس کریم صفت کا مشاہدہ فرمایا تھا ، آپ ہمیشہ امام کے گلوئے مبارک کے بوسے لیا کرتے تھے جس سے کلمۃ اللہ ادا ہوا اور وہ حسین جس نے ہمیشہ کلمہ حق کہا اور زمین پر عدل و حق کے چشمے بہائے ۔

صبر:

سید الشہدا کی ایک منفرد خاصیت دنیا کے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا ہے ، آپ نے صبر کی مٹھاس اپنے بچپن سے چکھی ، اپنے جد اور مادر گرامی کی مصیبتیں برداشت کیں ، اپنے پدر بزرگوار پر آنے والی سخت مصیبتوں کا مشاہدہ کیا، اپنے برادر بزرگوار کے دور میں صبر کا گھونٹ پیا ، ان کے لشکر کے ذریعہ آپ کو رسوا و ذلیل اور آپ سے غداری کرتے دیکھا یہاں تک کہ آپ صلح کرنے پر مجبور ہو گئے لیکن آپ اپنے برادر بزرگوار کے تمام آلام و مصائب میں شریک رہے ، یہاں تک کہ معاویہ نے امام حسن کو زہر ہلاہل دیدیا، آپ اپنے بھائی کا جنازہ اپنے جد کے پہلو میں دفن کرنے کے لیے لے کر چلے تو بنی امیہ نے عایشہ بنت ابوبکر کے حکم پر آپ کا راستہ روکا اور امام حسن کے جنازہ کو ان کے جد کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیا۔ یہ آپ کے لیے سب سے بڑی مصیبت تھی ۔

آپ کے لیے سب سے عظیم مصیبت جس پر آپ نے صبر کیا وہ اسلام کے اصول و قوانین پر عمل نہ کرنا تھا نیز آپ کے لیے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے جدبزرگوار کی طرف جھوٹی حدیثیں منسوب کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر شریعت ا لٰہی مسخ ہو رہی تھی آپ نے اس المیہ کا بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے پدر بزرگوار پر منبروں سے سب و شتم کیا جا رہا ہے نیز باغی ' زیاد 'شیعوں اور آپ کے چاہنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا تھا، چنانچہ آپ نے ان تمام مصائب و آلام پر صبر کیا ۔

جس سب سے سخت مصیبت پر آپ نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی، مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں بلکہ مصیبتیں آپ کا طواف کر رہی تھیں آپ اپنی اولاد اور اہل بیت کے روشن و منور ستاروں کے سامنے کھڑے تھے ،جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رہے تھے تو آپ ان سے مخاطب ہو کر ان کو صبر اور استقامت کی تلقین کر رہے تھے : 'اے میرے اہل بیت ! صبر کرو ،اے میرے چچا کے بیٹوں! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نہیں آئے گا '۔

آپ نے اپنی حقیقی بہن عقیلہ بنی ہاشم کو دیکھا کہ میرے خطبہ کے بعد ان کا دل رنج و غم سے بیٹھا جا رہا ہے تو آپ جلدی سے ان کے پاس آئے اور جو اللہ نے آپ کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس پر ہمیشہ صبر و رضا سے پیش آنے کا حکم دیا ۔

سب سے زیادہ خوفناک اور غم انگیز چیز جس پر امام نے صبر کیا وہ بچوں اور اہل و عیال کا پیاس سے بلبلانا تھا ،جو پیاس کی شدت سے فریاد کر رہے تھے، آپ ان کو صبر و استقامت کی تلقین کر رہے تھے اور ان کو یہ خبر دے رہے تھے کہ ان تمام مصائب و آلام کو سہنے کے بعد ان کا مستقبل روشن و منور ہو جائے گا ۔

آپ نے اس وقت بھی صبر کا مظاہرہ کیا جب تمام اعداء ایک دم ٹوٹ پڑے تھے اور چاروں طرف سے آپ کو نیزے و تلوار مار رہے تھے اور آپ کا جسم اطہر پیاس کی شدت سے بے تاب ہو رہا تھا ۔

تواضع:

امام حسین بہت زیادہ متواضع تھے اور انانیت اور تکبر آپ کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا ،یہ صفت آپ کو اپنے جد بزرگوار رسول اسلام سے میراث میں ملی تھی جنھوں نے زمین پر فضائل اور بلند اخلاق کے اصول قائم کیے ۔ راویوں نے آپ کے بلند اخلاق اور تواضع کے متعلق متعدد واقعات بیان کیے ہیں ،ہم ان میں سے ذیل میں چند واقعات بیان کر رہے ہیں :

آپ کا مسکینوں کے پاس سے گذر ہوا جو کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے کہا تو آپ اپنے مرکب سے اتر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، پھر ان سے فرمایا: 'میں نے تمہاری دعوت قبول کی تو تم میری دعوت قبول کرو ' انھوں نے آپ کے کلام پر لبیک کہا اور آپ کے ساتھ آپ کے گھر تک آئے آپ نے اپنی زوجہ رباب سے فرمایا: 'جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ لا کر دیدو '۔ انھوں نے جو کچھ گھر میں رقم تھی وہ لا کر آپ کے حوالے کر دی اور آپ نے وہ رقم ان سب کو دیدی۔ 

ایک مرتبہ آپ ان فقیروں کے پاس سے گذرے جو صدقہ کا کھانا کھا رہے تھے ،آپ نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آپ کو کھانے کی دعوت دی تو آپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا: 'اگر یہ صدقہ نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کے ساتھ کھاتا 'پھر آپ ان کو اپنے گھر تک لے کر آئے ان کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا اور ان کو درہم دینے کا حکم دیا۔ 

اقوال زرّین:

پروردگار عالم نے امام حسین کو حکمت اور فصل الخطاب عطا فرمایا تھا، آپ اپنی زبان مبارک سے مواعظ ،آداب اور تمام اسوہ حسنہ بیان فرماتے تھے ،آپ کی حکمت کے بعض کلمات قصار یہ ہیں :

امام حسین کا فرمان ہے : 'تم عذر خواہی کرنے سے پرہیز کرو ،بیشک مومن نہ برا کام انجام دیتا ہے اور نہ ہی عذر خواہی کرتا ہے ،اور منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور عذر خواہی کرتا ہے۔ 

امام حسین فرماتے ہیں : 'عاقل اس شخص سے گفتگو نہیں کرتا جس سے اسے اپنی تکذیب کا ڈر ہو،اس چیز کے متعلق سوال نہیں کرتا جس کے اسے انکار کا ڈر ہو ،اس شخص پر اعتماد نہیں کرتا جس کے دھوکہ دینے کا اسے خوف ہو اور اس چیز کی امید نہیں کرتا جس کی امید پر اسے اطمینان نہ ہو ۔ ۔۔

امام حسین کا فرمان ہے : 'پانچ چیزیں ایسی ہیں اگر وہ کسی میں نہ ہوں تو اس میں بہت سے نیک صفات نہیں ہوں گے عقل ،دین ،ادب ،حیا اور حُسن خلق

امام حسین فرماتے ہیں : 'بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے ،

امام حسین فرماتے ہیں : 'ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے ۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)